ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ ہے شفاف انتخابات کا انعقاد

Imran Khan-عمران خان

عمران خان کا ملک میں شفاف انتخابات کرانے کا کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں حکومت کے قیام پر ملک بھر میں تحریک انصاف کی جانب سے منائے جانے والے یوم تشکر کے موقع پر سابق وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ شفاف انتخابات نہیں ہوں گے تو ملک میں بحران اور انتشار مزید بڑھے گا، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ ہے شفاف انتخابات ،ہمیں سب سے پہلے ایک ایسا الیکشن کمیشن چاہیے جس پر سب کو اعتماد ہو، حالات بگڑتے جا رہے ہیں اس صورت حال سے ہم قوم بن کر ہی نکل سکتے ہیں.عمران خان نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھا کروں گا تاکہ کسی اور کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں، بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے مخلتف پیکیج تیار کر رہے ہیں جس سے ملک کو فائدہ ہو گا، بیرون ملک پاکستانیوں کا پیسہ ملک میں سرمایہ کاری میں لگائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی موجودہ حکمرانوں پر بالکل یقین نہیں کرتے، یہ بیرون ملک پاکستانیوں کو کہتے ہیں پیسہ ملک لائیں اور خود باہر لے جاتے ہیں، تاریخ میں کبھی بیرون ملک پاکستانی احتجاج کے لیے نہیں نکلے تھے، پہلی بار اوور سیز پاکستانی اس امپورٹڈ حکومت کے خلاف احتجج کے لیے نکلے۔عمران خان نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ سب سے بڑا خسارہ 2018ء میں چھوڑ کر گئے تھے، دوست ممالک کے پاس قرضہ مانگنے گیا تو بہت شرمندہ ہوتا تھا، کسی ملک سے پیسہ مانگتے ہیں تو پاکستانیوں کے لیے برا ہوتا ہے، ہم دوبارہ اقتدار میں آئے تو اوور سیز پاکستانیوں سے پیسہ جمع کریں گے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی فتح کا جشن منانے والے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں اپنے پاکستانیوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں، تین ماہ پہلے ہماری حکومت ہٹا کر کرپٹ لوگوں کو مسلط کیا گیا، ایسے لوگوں کو ہم پر مسلط کیا گیا جو گزشتہ تیس سال سے کرپشن کر رہے تھے، پاکستانی قوم کی توہین کی گئی، عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھا گیا، کہ کسی کو بھی مسلط کردو کہ قوم خاموش ہو کر برداشت کرے گی، عمران خان کی جانب سے موجودہ حکومت کی معاشی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے ساڑھے 3 سال میں ڈالر 50 روپے مہنگا ہوا، جبکہ ان کے صرف ساڑھے 3 ماہ میں ڈالر 53 روپے مہنگا ہو گیا۔ ہماری حکومت میں سارے  معاشی  اشاریے درست راستے پر چل رہے تھے، اقتصادی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت 6 فیصد گروتھ کر رہی تھی، 17 سال بعد پاکستان کی معیشت میں اس قسم کی ترقی ہو رہی تھی۔ہمارے دور میں زراعت 4.4 فیصد کیساتھ ترقی کر رہی تھی، ٹیکنالوجی سیکٹر کی مدد کرنے پر دو سال میں آئی ٹی ایکسپورٹ میں 75 فیصد اضافہ ہوا، ہماری حکومت کی مکمل توجہ ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر پر تھی، ہم پاکستان کو پہلی بار فلاحی ریاست کی طرف لے جا رہے تھے،  ہم نے پاکستان میں صحت کارڈ متعارف کروایا ، غریب لوگوں کو ہیلتھ انشورنس دی، ایسے کئی ممالک ہیں جہاں صحت کارڈ یا ہیلتھ انشورنس کی سہولت نہیں، صحت کارڈ شروع کرنے پر دنیا نے ہماری پالیسی کی تعریف کی، صحت کارڈ سے پہلی بار غریب لوگ پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کروا رہے تھے۔ راشن پروگرام کے تحت شہریوں کو تیل، گھی، چینی و دیگر اشیاء کم قیمت پر فراہم کی جائیں گی۔ عمران خان نے واضح کیا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ شفاف انتخابات ہے، شفاف انتخابات نہیں ہوں گے تو بحران اور انتشار مزید بڑھے گا، پاناما کیس میں بھی جج ایک ہی سوال پوچھتے رہے پیسہ کہاں سے آیا، ساری دنیا کی باتیں کرتے رہے لیکن جج کو جواب نہیں دیا کہ پیسہ کہاں سے آیا، یہ لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، بڑے بڑے مافیا بیٹھے ہوئے ہیں۔یہ پاکستان کا مسئلہ ہے، جب تک ان سب کو قانون کے نیچے نہیں لائیں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکے گا، جس دن سیاستدان چوورں کے ساتھ ڈیل کر لیتا ہے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے، میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، اللہ کا حکم امر بالمعروف ہے، ایک معاشرہ جب تک اچھائی کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتاتو برائی اوپر آ جاتی ہے، اللہ کا حکم ہے اچھائی کے ساتھ کھڑے اور برائی کے خلاف جہاد کرو، کسی بھی خوشحال معاشرے کو دیکھ لیں وہاں امر بالمعروف پر عمل ہوتا ہے۔

Leave a Reply